پاکستان

علم کو عزت دو ، راولپنڈی میں سکول کی عمارت زبردستی خالی کروا لی گئی

راولپنڈی ( ) العلم پبلک سکول کی عمارت کو زبردستی خالی کرانے اور عدالتی سٹے آرڈز کی خلاف ورزی پر پرائیوٹ سکولز کی تنظمیوں ، اساتذہ ، طلبا اور والدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے بلڈنگ مالکہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ راولپنڈی کےعلاقہ سیٹلائٹ ٹاون بی بلاک میں قائم نجی سکول العلم سکول کو مالک مکان کی طرف سے زبردستی خالی کرا دیا گیا ہے جبکہ سکول کا سارا سامان اٹھا کر باہر بھینک دیا گیا ہے۔ سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مکان کا معاہدہ 2021 تک ہوا ہے جبکہ کورونا کی وجہ سے صرف ایک ماہ کا کرایہ لیٹ ہوا ہے ہم نے عدالت سے اس حوالےسے سٹے بھی لے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود توہین عدالت کی گئی ہے اور سکول کا سارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا ہے ۔ اس  حوالےسے پرائیوٹ سکولوں کی نمائندہ تنظیم آئی ایف سی پاکستان کےصدر چوہدری محمد طیب کا کہنا ہے کہ بلڈنگ مالکان کو کورونا وائرس کی وجہ سے احساس ذمہ داری کامظاہرہ کرنا چاہیے ۔ 4 ماہ سے سکول بند ہیں ۔سکولوں میں معلم قرآن کی تعلیم دیتے ہیں ۔سکولوں سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے اور ایک ماہ کرایہ نہ دینے پر یہ ظلم کیا گیا ہے ۔ اگر اس قسم کے اقدامات کیے گئے تو بھرپور احتجاج کرینگے۔ ہم نے حکومت کے کہنے پر دو ماہ کی فیسوں میں بھی رعایت کی اور بلڈنگ مالکان نے زبردستی سکول سے نکال کر مدینہ کی ریاست کے حکمرانوں ،وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ کے فیصلوں کی نفی کی ہے ۔ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کمشنر راولپنڈی کو ایکشن لینا چاہیے اور معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہے ۔ العلم پبلک سکول سسٹم کے پرنسپل قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالت سے سٹے آرڈر کے باوجود ہمارا سکول خالی کر دیا گیا ہے اور سامان باہر پھینک کر اپنے تالے لگا لیے گئے ہیں ۔ ہمارا سارا سامان چوری کر لیا گیا ہے ۔ کمپوٹر لیب ، اور فرینچر بھی موجود نہیں ہے ۔ تھانہ نیو ٹاون میں مکان مالکہ کے خلاف پرچہ درج کرانے کی درخواست دی ہے لیکن اب تک پولیس کی جانب سے نہ ہی پرچہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی ہے ۔ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ احتجاجی مظاہرے سے مفتی عبدالواجد، مولانا امجد اسلام ، خضر ستی ، افتخار علی حیدر، اشتیاق ستی، اور دیگر رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کے ہوتے ہوئے تعلیمی اداروں کو اس طرح بند کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ان عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ۔ حکمرانوں نے تعلیم کو ایمرجنسی میں ڈال دیا ہے ۔ ایس او پیز کے تحت دیگر اداروں کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی کھولا جا سکتا ہے ۔ مظاہرے میں سکول کے بچے ، والدین اور اساتذہ نے شرکت کی اور سکول کی بندش کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں تعلیم دشمن مکان مالکہ کے خلاف نعرے درج تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.