پاکستانکوروناوائرس

نویں تا بارہویں پرسوں ، پہلی آٹھویں تک سکول اور یونیورسٹیاں یکم فروری سے کھلیں گی

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے باعث بند کیے گئے تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اب پہلی سے 8ویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے 25جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھولے جائیں گے،9ویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے گزشتہ فیصلے کے مطابق 18جنوری سے ہی کھول دیے جائیں گے اور اعلی تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے اور وہ بھی یکم فروری سے کھل جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں صوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں چاروں صوبوں،آزاکشمیر اور گلگت بلتستان کے وزراء تعلیم نے شرکت کی جبکہ وزارت صحت کے حکام نے اجلاس کو کرونا کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی۔بعد ازاںپریس کانفرنس سے خطاب میںشفقت محمود نے کہا کہ 15ستمبر کو جب ہم نے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت وائرس کے کیسز مثبت آنے کی شرح 1.9کے قریب تھی۔انہوں نے کہا کہ شدید بیمار مریض 570کے قریب تھے، روز 5اموات ہو رہی تھیں اور روزانہ جو کیسز آ رہے تھے وہ 600کے قریب تھے۔ان کا کہنا تھا کہ 26نومبر کو جب ہم نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت مثبت کیسز کی شرح 1.9سے بڑھ کر 7.14پر چلی گئی تھی، شدید بیمار مریضوں کی تعداد 570سے بڑھ کر ایک ہزار 958تک پہنچ گئی تھی اور روزمرہ کی اموات پانچ سے بڑھ کر 47ہو گئی تھیں جبکہ روزانہ کے کیسز 600سے 3ہزار تک پہنچ گئے تھے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے تعلیمی ادارے بند کیے کیونکہ ماہرین صحت اور ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ سکول اور تعلیمی ادارے بند ہونے کا انفیکشن کی شرح پر واضح اثر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26نومبر کو ہم نے بند کیا تو اس سے گراف کچھ نیچے آیا لیکن جدید اعدادوشمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح 7.14سے کم ہو کر 6.10پر آ گئی ہے اور یہ شرح ابھی بھی نسبتاً زیادہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو کر 2ہزار 300تک پہنچے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ تعلیم سے وابستہ تمام لوگوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت بہت نیچے چلی جاتی ہے اور پچھلے 8سے 9ماہ میں تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کم سے کم رسک ہو اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے اس سال بغیر امتحان کے کسی بچے کو پاس نہیں کیا جائے گا جس طرح پچھلے سال کیا گیا تھا، اس لیے ضروری ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ تعلیمی ادارے کھل جائیں گے لیکن اگلے ہفتے ہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں تمام ڈیٹا کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ جن شہروں میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، کیا وہاں پہلی تاریخ سے تعلیمی اداروں کو نہ کھولا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ممکن ہے کہ اگر کسی شہر میں انفیکشن ریٹ بہت زیادہ ہے تو وہاں تعلیمی ادارے نہ کھولے جائیں لیکن باقی جگہ کھول دیئے جائیں گے۔ شفقت محمود نے یہ بھی بتایا کہ شہروں میں کرونا وائرس کی شرح دیکھ کر مزید فیصلے کیئے جائیں گے، اگلے ہفتے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں شہروں میں کرونا وائرس کے پھیلاو کا پھر جائزہ لیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.