آرٹیکلز

عرب ثقافت کا امین ۔ ۔ ۔ متحدہ عرب امارات صہیب خان کے قلم سے

چاروں طرف سمندر کے پانیوں سے گھرا ہوا سات جزائر پر مشتمل خطہ عرب امارات کہلاتا ہے۔ جس میں دبئی،ابوظہبی ، عجمان ، فجیرہ ، راس الخیمہ ، ام القوین ، شارجہ شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی سرحدیں مملکت سعودیہ اور سلطنت عمان سے بھی جا ملتی ہیں۔30 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا یہ خطہ کم و بیش 50 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے۔عربی زبان ہی مادری زبان ہے۔ 1970ء میں تیل کی دریافت کے بعد اس خطے نے ترقی کی ایسی منازل طے کیں کہ پوری دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی حب کی صورت بھی اختیار کر گیا۔ اس وقت متحدہ عرب امارات انسانی فلاح و بہبود کے لئے بہترین قرار دیئے جانے والی ممالک کی صف میں نمایاں حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔وہاں کا نظام حکومت عدل و انصاف کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ صحت سمیت تمام بنیادی انسانی ضروریات کی ہر مرد و زن تک بلاامتیاز فراہمی عالمی دنیا کے لئے روشن مثال ہے۔
عرب امارات کے لوگ انتہائی ملنسار اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ مہمان نوازی ، رواداری ، باہمی بھائی چارہ ،اسلامی روایات کو انکے مزاج میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہاں پر ہر خاندان کا ایک بزرگ ہوتا ہے جو سربراہ کی حیثیت رکھتے ہوئے خاندانی معاملات کو بخوبی چلاتا ہے۔اسی طرح مختلف قبائل ہوتے ہیں جو اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں اور ان قبائل کے سردار بھی الگ الگ چنے جاتے ہیں۔ جو معاشرتی حلقوں میں اپنے قبیلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔عربوں کا صحرا کے ساتھ صدیوں پرانا رشتہ ہے۔آج بھی عرب نوجوان ،بچے ،بوڑھے ،خواتین تفریح کے لئے صحرا کو فوقیت دیتے ہیں۔ وہاں کی عوام نے اسلامی روایات کو کس قدر مضبوطی سے تھامے رکھا ہے اس کا اندازہ گھوڑوں کی پرورش، ان کا حسب نسب ، اعلی نسل کے اونٹ پالنے جیسے شوق سمیت مردوخواتین کے مخصوص اسلامی لباس کو دیکھ کر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ جانوروں میں سے گھوڑے اور اونٹ کو اسلام میں خاص فوقیت حاصل ہے۔قرآن کریم میں بھی متعددبار ذکر ملتا ہے۔ لہذا عرب خطے کے لوگوں کے ان دونوں جانوروں سے انس کی اہم وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے لوگ کھانے میں مچھلی ،گوشت،چاول،اونٹ کے دودھ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے ہمیشہ سر گرم عمل رہی ہے۔اس وقت بھی قرآن کریم کی اشاعت کا کام بڑی سطح پر جاری و ساری ہے۔کچھ سال قبل ہی ریاست متحدہ عرب امارات نے قرآن کریم کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کروا کر فرانس کے مسلمانوں کے لئے بطور تحفہ پیش کیا تھا جس پر پوری دنیا کے مسلمان خوش و خرم ہونے کے ساتھ ساتھ مشکور بھی نظر آئے۔یقینا یہ ایک بہت حوصلہ افزا بات ہے اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کی پیروی کرنے چاہئے تا کہ زیادہ سے زیادہ قومیں اسلام کے عالمی پیغام سے روشناش ہو سکیں۔
اگر آپ متحدہ عرب امارات کے طول عرض کا سفر کریں تو آپ کو وہاں کے فن تعمیر میںاسلامی روایات کی جھلک نظر آئے گی۔ جدید عمارت ہو یا قدیم ہر جگہ مسلمان فن تعمیر کا جھلک دیکھنے کو ملے گی۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی حکومت خود بھی اس پر کافی توجہ دیتی چلی آرہی ہے۔اسلامی فن تعمیر کا شاہکار دیکھنا ہو تو آپ متحدہ عرب امارات کی مساجد کو دیکھ سکتے ہیں،جن کی بناوٹ،سجاوٹ جدید و قدیم طرز ہائے تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ان میں سر فہرست جامع مسجد شیخ زید ہے۔جو عثمانی و فاطمی دور کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ اور پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کو اسلامی طرز تعمیر کے ساتھ ساتھ تعلیمات اسلامی سے روشناس کرواتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زید بن النہیان بھی اسی مسجد کے احاطے میںمدفون ہیں۔
اس وقت متحدہ عرب امارات کی جامعات عالمی سطح کی تعلیم دے رہی ہیں۔وہاں کی یونیورسٹیز میں اسلام،حدیث،تفسیر،فقہ،و دیگر علوم میں باقاعدہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے رہی ہیں۔پوری دنیا سے آنے والے طلباءکو سائنسی علوم پر جدید دور کے مطابق نہ صرف تحقیقات کروائی جارہی ہیںبلکہ ان تحقیقات سے متعلق عالمی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر قسم کی سہولیات میسر کی جارہی ہیں۔یہی وہ روایات تھیں جنہیں مسلمانوں نے قرطبہ و بغداد کے زوال کے بعد پس پشت ڈال دیا تھا۔لیکن آج مسلمان پھر ایک مرتبہ اپنے ماضی کی روایتوں کو زندہ کرنے لئے کوشاں ہیں۔
حال ہی میں ایک سروے کے مطابق قحط زدہ ، جنگ زدہ ، معاشی طور پر بد حال ممالک کی مدد کے لئے آنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات کوسرفہرست گرداناگیاہے۔سروے کے مطابق مصر،مراکش،لیبیا،تیونس،سوڈان،الجزائر،صومالیہ، ایتھوپیا،یوگنڈا،کینیا،نائجیریا،مویطانیہ اور گھانا کو دی جانے والی غیر ملکی امداد میں سب سے بڑا حصہ متحدہ عرب امارات کا تھا۔
اسی طرح اردن ،یمن ،افغانستان ،بھارت ،بنگلہ دیش،سری لنکا،فلپائن ،ملیشیا ،انڈونیشیا،کو قدرتی آفات پر سب سے زیادہ تعاون متحدہ عرب امارات کا رہا۔اس وقت بھی فلسطین اور شام جیسے جنگ زدہ ممالک کی مظلوم عوام کے لئے عرب امارات پیش پیش ہیں۔ان ممالک مہاجرین کے کھانے ،پینے ،اور رہنے کے لئے مناسب بندوبست میں بھی ریاست متحدہ عرب امارات کا فعال کردار ہے۔
پاکستان کے عرب امارات کے ساتھ روایتی ،ثقافتی ،تجارتی، بھائی چارے پر مبنی شاندار تعلقات رہے ہیں۔ جہاں ہمارے متحدہ عرب امارات کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں وہیں دفاعی اور سیکیورٹی سمیت اقتصادی شعبوں میں بھی ایک دوسرے کو تعاون حاصل ہے۔پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستانی عوام متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا گھر گردانتے ہیں۔اسی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی کوئی قدرتی آفت ہو یا مشکل کی گھڑی ہمیشہ پاکستانی بھائیوں کا ساتھ دیا۔ابھی چند دن قبل ہی عزت ماب ولی عہد محمد بن زید النہیان ایک روزہ تاریخی دورے پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔اس دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہوئے دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی امور تبادلہ خیال سمیت دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں،دوطرفہ تعلقات اورتعاون میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ولی عہدنے پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ ولی عہد محمد بن زید النہیان نے او آئی سی میں پاکستان کے اہم کردار کو سراہا اورجنوبی ایشیاءمیں امن اور تنازعات کے حل میں عرب امارات کی طرف سے حمایت کاعزم کیا۔
ملک پاکستان کی عوام کلمہ لاالہ الاللہ کی بنیاد پراپنے اماراتی بھائیوں کو نا صرف انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ متحدہ عرب امارت کی بقاءکو پاکستان کی بقاءسمجھتے ہیں۔اور ان کے کندھے سے کندھا ملا کر شانہ بشانہ چلنا اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔
ہمیں فخر ہے کہ پاکستان ،متحدہ عرب امارات تعلقات بے پناہ ، لامحدود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.