آرٹیکلز

جاگتے رہو ۔۔۔ ہماری زبان!

عظمی گل کے قلم سے

برصغیر پاک و ہند میں مغل دور ِحکومت میں سرکاری زبان فارسی تھی۔ جبکہ تمام مذہبی کاروائیوں کے لئے عربی زبان استعمال کی جاتی تھی۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر دھوکے سے قبضہ کیا تو 1835 میں سب سے پہلا وار انہوں نے سرکاری زبان پر کیا۔ ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی کی جگہ انگریزی کر دی گئی۔ تمام سرکاری اہلکار، کا رندے اور عہدیدار جو فارسی اور عربی کے ماہر اور لکھائی والے سرکاری کام سنبھالتے تھے یکدم انکی ضرورت نہ رہی اور وہ بے چارے بے روز گار ہو گئے۔ یوں انگریز نے ایک ہی وار سے مسلمانوں کی حکمرانی کے اثرات ختم کرنے کی داغ بیل ڈال دی۔ ہندوستان میں چونکہ 22 باقاعدہ اور 19500 مقامی زبانیں بولی جاتی تھیں لہذا کار سرکار کے لیے ایک سرکاری زبان کا ہونا ناگزیر تھا۔ مسلمانوں سے خائف ، متعصب ہندوؤں کا انگریزوں سے گٹھ جوڑ فطری تھا۔ انہوں نے زور و شور سے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی اور آہستہ آہستہ مسلمانوں کی جگہ تمام سرکاری عہدوں پر مکمل طور پر قابض ہو گئے۔ ادھر مسلمان فارسی اور عربی کی سرکاری حیثیت ختم ہونے پر غم و غصے کے باعث انگریزی تعلیم حاصل نہ کر کے مرکزی دھارے سے باہر ہو گئے۔ بالآخر 1866 میں سرسید احمد خان نے معاملے کی نوعیت کو بھانپتے ہوئے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کر کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے کی ترغیب کے لیے تحریک کا آغاز کیا۔ ایسا ہر بادشاہت میں ہوتا ہے کہ اشرافیہ کی زبان جان بوجھ کرعوام سے مختلف رکھی جاتی ہے تاکہ ایسے معاملات جو عوام کے حق میں نہ ہوں یا ان کے مفادات کے برخلاف ہوں، اُنکی قانونی پیچیدگیاں اور زبان انہیں سمجھ نہ آ سکے۔ جیسے یورپ میں کلیسا کے اثر رسوخ کے باعث لاطینی زبان میں سرکاری اور قانونی خط و کتابت ہوا کرتی تھی۔ بعینی ایسے ہی آریہ سماج کے دور میں سنسکرت سرکاری اور قانونی زبان تھی جو کہ صرف برہمنوں، پنڈتوں یا پروہتوں کو ہی سمجھ آتی تھی۔ اس طرح حکمرانوں اور عوام کے درمیان زبان کی ایک ایسی خلیج پیدا ہو جاتی جس کو عوام کسی بھی صورت پارٹ نہیں سکتے۔

تقسیم ہند کے بعد قائد اعظم محمد علی جناحؓ نے اردو زبان کو قومی زبان قرار دیا۔ مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں ایک عوامی جلسے میں تین لاکھ سے زائد شرکاء کی موجودگی میں قائد اعظمؓ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی خواہش کہ بنگلہ آ پکے صوبے کی زبان بنائی جائے کا فیصلہ صرف آ پکے منتخب نمائندے ہی کر سکتے ہیں۔ مگر آج میں سب کو واضح کرنا چاہتا ہوں جس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری قومی زبان صرف اردو ہی ہو گی ، کوئی اور زبان نہیں۔ اسی طرح 1973 کے آئین کی شق 251 اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اردو نہ صرف قومی زبان ہو گی بلکہ پاکستان کی سرکاری زبان بھی اردو ہی ہو گی۔ اس کے مکمل نفاذ کے لیے آئین میں حکومت کو 15 سال کا وقت دیا گیا تھا تاکہ تمام ادارے بتدریج اپنی کاروائیاں اردو زبان میں منتقل کر سکیں، یہ میعاد 1988 میں پوری ہو چکی ہے۔ مگر جیسا پاکستان کا اب تک المیہ رہا ہے کہ آئین پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ دار حکومتیں خود ہی آئین کی شقوں کو نافذ نہ کرنے کے بہانے تراشتی ہیں اور اس کام کے لیے عدلیہ کا سہارا لیتی ہیں جس سے عملاً آئین کی حیثیت صرف ایک کتاب جیسی رہ جاتی ہے۔ جس شق پر عملدرآمد کرانے سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہے، وہاں آئین کی پاسداری یاد آ جاتی ہے اور جس شق سے مفاد پرست حکومتوں کو دقت یا ان کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی اس کو ناقابل عمل قرار دے کر سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔27سال بعد عدالت عظمٰی کے تاریخ ساز فیصلے میں جو 8 ستمبر 2015 کو جسٹس جواد ایس خواجہ نے دیا، حکومت کو مزید تین ماہ دیے گئے تاکہ خوش اسلوبی سے اردو زبان کی منتقلی اور آئین کی شق 251 پر من و عن عمل کیا جا سکے۔ افسوس یہ فیصلہ بھی عدالت عظمٰی کے متعدد تاریخی فیصلوں کی طرح حکومتی نا اہلی اور بدنیتی کی نذر ہو گیا۔ البتہ عدالت عظمٰی کے فیصلے کی خانہ پری کے لیے اتنا اطلاق ضرور کیا گیا کہ سمن اب اردو زبان میں بھیجے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ 1935سے لے کر اب تک انگریزی زبان کی ترویج کی ہر ممکن کوشش کے باوجود یہ عام عوام کی زبان نہیں بن سکی۔ بڑے بڑے سرکاری افسروں، سیاستدانوں کے علاوہ بہت سے وکلاء اور عدلیہ کے ارکان بھی اس پر مکمل عبور نہیں رکھتے۔ عوام کا یہ استحقاق ہے کہ ان کے حق میں یا خلاف کوئی بھی فیصلہ یا قانون سازی ان کو خود سمجھ آسکے، نہ کہ کسی دوسرے کے ذریعے انہیں مطلب سمجھایا جائے۔ ایسے ہی بیرون ممالک سرکاری دوروں پر ہمارے نمائندوں کی انگریزی زبان میں تقاریر عوام کے لئے بے سود ہوتی ہیں جبکہ غیر ملکی میزبانوں کے سامنے ہماری ذہنی غلامی کی عکاسی کرتی ہیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کے ذریعے 1973 کے آئین کی منظوری دے کر اردو کو سرکاری زبان بنانے کے فیصلے پر مہر ثبت کر دی تھی مگر حکومت میں شامل مفاد پرست اور سازشی عناصر آج تک اردو کے نفاذ کے معاملے میں رکاوٹیں ڈال کر عوامی رائے کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ مشرقی پاکستانیوں کی بنگلہ زبان صوبے کی سرکاری زبان بنانے کی دیرینہ خواہش کی بجائے زبردستی ان پر اردو مسلط کرنے والے، آج پاکستان میں اردو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کے فیصلے پر کیوں گنگ ہیں؟ 24 جنوری2021 کو پاکستان بھر میں نفاذ اردو کے لئے عوامی جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ عوام مجسم احتجاج ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے منشور میں واضح طور پر یکساں تعلیمی نصاب اور اردو کو سرکاری زبان بنانے کا اعادہ کیا تھا۔ لیکن ڈھائی سال گزر جانے کے بعد بھی، عدالت عظمٰی کو بار ہا نفاذ اردو کی یقین دہانیوں کے باوجود، وفاقی نصاب کمیٹی نے وعدے کے برخلاف ذریعہ تعلیم اردو کی بجائے انگریزی زبان کو قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ ٹیوٹا (TEVTA) جو کہ غریب اور متوسط گھرانوں کے میٹرک پاس بچوں کے لئے ٹیکنیکل ہنر سکھانے کا ادارہ ہے، کے پنجاب کے چیرمین جناب علی سلمان صدیق جو سابق وفاقی سیکرٹیری اور پی آئی اے کے ڈائریکٹر سلمان صدیق کے فرزند ہیں اور والد ہی کی طرح برطانیہ سے تعلیم یافتہ بھی ہیں ،نے 73 سال بعد اس ٹیکنیکل ادارے کا ذریعہ تعلیم اردو کی بجائے انگریزی زبان کر دیا ہے۔ آپ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر شیخوپورہ سے صوبائی الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ ادھر صوبائی وزیر ِتعلیم مراد راس نے انگریزی زبان کی ترویج کے لئے برٹش کونسل کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ غرضیکہ مشرق وسطیٰ میں جو غریب محنت کش گھرانوں کے بچے روز گار حاصل کر لیتے تھے، اب ایسے مواقع ان کے ہاتھ سے پھسلتے جائیں گے۔ چونکہ ٹیکنیکل ہنر کے لئے انگریزی یا عربی کی ضرورت نہیں ،لہذا اردو میں انکے لیے پڑھنا اور سمجھنا بہت آسان تھا۔ البتہ اربوں روپے انگریزی کی نئی کتب، نصاب کی تیاری اور انگریزی گائیڈ کتابیں بنانے کی مد میں ہڑپ کر لیے جائیں گے۔ جان بوجھ کر انگریزی بولنے والے اور انگریزی تعلیم یافتہ کو ہر سرکاری ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے۔ حتٰی کہ سب سے اعلیٰ سرکاری عہدوں کا امتحان جسے “مقابلے کا امتحان “کہا جاتا ہے وہ بھی انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ نتیجتاً اعلیٰ سرکاری عہدے انگریزی دانوں کو ہی ملتے ہیں اور اسی نسبت سے عوامی خواہشات کے برعکس وہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لئے نفاذ اردو کا راستہ روکنے میں ہر طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔

73سال ہو گئے ایسا ہی چلتا جا رہا ہے! ہم کب راہ راست پر آ کر عوامی بھلائی کے لئے کچھ کریں گے؟ پی ٹی آئی نے قوم سے اس وعدے پربھی ووٹ لیا تھا کہ وہ یکساں نصاب تعلیم اور نفاذ اردو پر عمل کروائیں گے۔ نہ صرف یہ وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے منشور پر عمل درآمد کروائیں بلکہ یہ ہر اس شخص کی ذمہ داری بھی بنتی ہے جس نے آئین پر حلف اٹھا کر اس کی پاسداری کرنے کا عہد کیا ہے۔ ایسا نہ کر کے اور نفاذ اردو کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے، وہ اپنے حلف سے انحراف کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ عدالت عظمٰی سے بھی درخواست ہے کہ اپنے اس تاریخی فیصلے پر من و عن عمل کروائے کیونکہ عوام کے پاس ﷲسبحانہ و تعالیٰ کے بعد عدالت عظمٰی کی جانب دیکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
؎ یورپ کی غلامی پہ رضامند ہُوا تُو
مجھ کو تُو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.