بین الاقوامی

بیٹے کی میت کامطالبہ کرنے پر والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر بھارت اندورن اور بیرون ملک شدید تنقید کی زد میں

بیٹے کی میت کامطالبہ کرنے پر والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر بھارت اندورن اور بیرون ملک شدید تنقید کی زد میں

سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے تین نوجوانوں میں سے ایک کے والد کی طرف سے اپنے بیٹے کی میت کا مطالبہ کرنے پر ان کے خلاف کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے پر بھارت اندورن اور بیرون ملک شدید تنقیدکی زد میں ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے پیر کے روز 40 سالہ والد مشتاق وانی کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون(یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ نوجوان اطہر مشتاق وانی 30 دسمبر 2020 کو سرینگر کے علاقے لاوے پورہ میں دو دیگر نوجوانوں کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا تھا۔ایک والد کی طرف سے اپنے بیٹے کی میت کا مطالبہ کرنے پران کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں حریت فورم اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد بھارت کو اب عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔سعودی عرب سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ عرب نیوز نے انسانی حقوق کے ایک کشمیری وکیل حبیب اقبال کے حوالے سے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت اس خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرنا ایک ظالمانہ فیصلہ ہے۔ اپنے بیٹے کی میت کا مطالبہ کرنے پر ایک باپ کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کرنا شہریوں میں خوف کا احساس پیدا کرنے کے لئے قانون کو جبر کے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔ انہوںنے کہاکہ نوجوانوں کی میتیں واپس نہ کرنے کی پالیسی بین الاقوامی مسلح تنازعات کے قانون اور انسانیت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دہلی میں مقیم کشمیری کارکن ناصر کھوہامی نے اس اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے عرب نیوز کو بتایاچونکہ وہ مشتاق کو خاموش نہیں کرسکے اس لئے انہوں نے اس پر مقدمہ درج کر لیا۔ اگر دھمکی سے کام نہیں چلا تو وہ اسے مزید جھوٹے مقدمات میں جیل بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ نیا کشمیر ہے جہاں بیٹے کی میت کی واپسی کا مطالبہ کرنا غیر قانونی سرگرمی ہے۔ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اگر حکومت کو یقین ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں سے کشمیر کو بھارت بنا سکتی ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتی ہے۔ جموں سے تعلق رکھنے والی سینئر صحافی اور انگریزی اخبار کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورادھا بھسین نے کہاکہ اس سے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اگر آپ انصاف کے حصول کے لئے قانونی چارہ جوئی اور تمام جمہوری راستے بند کر دیتے ہیں ، اگر آپ انصاف کے متلاشیوں کو گولی مار دیتے ہیں تو آپ زیادہ بدگمانیاں اور عدم اعتماد پیدا کررہے ہیں۔مشتاق وانی نے عرب نیوز کو بتایاکہ میں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ آیا آپ کے پاس میرے بیٹے کی مذموم سرگرمیوں کے بارے میں کوئی ثبوت ، کوئی فوٹیج یا کوئی ویڈیو موجود ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ میرا بیٹا عسکریت پسند تھا۔اخبار نے لکھا کہ اہل خانہ کی طرف سے احتجاج اور اپنے بیٹوں کی معصومیت کی دہائی کے باوجود مقامی انتظامیہ نے ان تینوں کی میتوں کو ان کے آبائی ضلع پلوامہ سے 100 کلومیٹر دور ایک دور دراز علاقے میں دفن کردیا ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.