آرٹیکلز

عھدے آزمائش ھیں

تحریر : محمد عظیم خان کاکڑ

عہدے آزمائش ہیں؛

اس تحریر پر شاید تعمیری تنقید بھی آئے اور بعض لوگ شدید اختلاف بھی رکھیں لیکن یہ بات کہنا لازمی سمجھتا ہوں کہ اگر اس تحریر کی روح تک آپ پہنچیں تو شاہد اختلاف کی جگہ نہ بچے۔ ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ چند افراد کا حق سمجھتے ہوئے ان کی تعریف میں اعترافی نوٹ لکھ رہا ہوں۔ کاکڑ ترغزئی قبیلے کے وہ پانچ افراد جنہوں نے حقیقی معنوں میں باوقار زندگی گزاری ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرونگا۔

اس تحریر کے توسط سے تمام محب وطن افراد سے التجا کرنا چاہونگا کہ اپنے حقیقی ہیروز کی قدر کریں؛ انڈونیشیا کے سابق صدر احمد سوئیکارنو نے کہا؛ “کسی قوم کی عظمت کا اندازہ اس قوم میں موجود ہیروز کی قدر سے لگایا جاسکتا ہے”. میں اکثر پشتونوں کی محفلوں میں شرکت کر کے سنتا ہوں کہ (سڑی ختم سو) یعنی اچھے لوگ نہیں رہے۔ میں ہمیشہ سے اس بات کی نفی کرتا رہا ہوں اور میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کرتا ہوں کی اچھے لوگ اب بھی ہیں مگر افسوس ہم قدر کرنے والے نہیں۔ ہم سے پہلے کی نسلوں میں ایک خاص خوبی تھی اور وہ یہ کہ اس وقت کردار کی بنیاد پر اچھے اور برے کی تمیز ہوتی تھی مگر اب پیسے، منصب اور طاقت کی بنیاد پر۔

اس تحریر کے ذریعے پڑھے لکھے نوجوانوں سے گذارش کرنا چاہونگا کہ حقیقی طور پر داد کے مستحق وہ لوگ ہیں جن کے پاس منصب اور عہدہ رہا اور انھوں نے کسی شخص کو فائدہ پہنچایا۔ ترغزئی قبیلے میں درجنوں افراد بڑے منصب اور عہدوں پر فائز ہوئے، درجنوں افراد ایسے ہیں جو انتہا درجے کے مالدار ہیں مگر یہ پیسہ اور عہدہ بےکار ہی رہا چونکہ اس سے وطن کو فائدہ نہ مل سکا۔

یقینا جس دور میں ہم رہ رہے ہیں یہاں مادہ پرستی اور خودپسندی انتہا پر ہے مگر بہت کم لوگ ایسے ہیں جو عہدوں کے تعارف کی قید سے آزاد ہوتے ہیں ایسے افراد اپنی باکمال شخصیت، انسان دوستی، اعلی فکر اور حب الوطنی کے جذبات سے اپنی پہچان بناتے ہیں۔ ایسے اشخاص کو پہلے تو عہدوں کے تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر اللہ موقع فراہم کرے تو ایسے اشخاص مثال پیش کرتے ہیں۔

ایک بات کی وضاحت لازمی سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ حق اور احسان دو الگ تصورات ہیں؛ جن لوگوں کو عوام نے اپنے ووٹ سے تعارف دیا اگر وہ علاقے میں ایک دو سڑکیں بنائیں یا ٹیوب ویل لگا لیں, کسی کو نوکری دلا دے تو ایسا کرنا ان پر عوام کا حق ہے اور وہ اس لئے کہ ان افراد کو یہ عہدہ عوام کے ہی ووٹ سے ملا ہے۔ اس کی نسبت وہ لوگ جو اپنی ہی محنت سے کوئی منصب حاصل کریں اور پھر اپنے وطن اور قبیلے کی خدمت کو ترجیح دیں تو ایسے افراد احسان کرتے ہیں۔ میں ڈاکٹر محمد نسیم کاکڑ مرحوم، انجینئر واحد کاکڑ، حافظ محمد طاہر اور ڈاکٹر ایوب کاکڑ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے موقع پایا تو اپنے عوام کی بے لوث خدمت کی۔ یہ تمام افراد اپنی محنت سے ہی کسی خاص مقام تک پہنچے۔ البتہ ترغزئی قبیلے کی سیاسی اکائیوں میں ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے چالیس سال تک اپنی ذاتی استعداد میں عوام کی خدمت بھی کی اور عمر کے آخری حصے میں ایک فلاحی ہسپتال بھی قائم کیا۔

ڈاکٹر حافظ طاہر انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر پشین کے درجنوں نوجوانوں کو روزگار پر لگا چکے ہیں، ڈاکٹر ایوب کاکڑ کو ایک مختصر عرصہ ملا جب آپ ایم ایس بولان میڈیکل ہسپتال تعینات ہوئے اور آپ نے درجنوں نوجوانوں کو روزگار پر لگایا۔ اسی طرح انجینیر عبدالواحد کاکڑ صرف چند مہینوں کے لئے ڈپٹی کمشنر پشین تعینات ہوئے اور آپ نے درجنوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا۔ رہی بات مرحوم ڈاکٹر محمد نسیم کاکڑ کی تو ضلع پشین کے لئے کسی مسیحا سے کم نہ تھے۔ چالیس سال سے زاہد عرصے تک جس انداز میں انھوں نے انسانیت کے لئے خدمت کی وہ انداز ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

جب عہدہ، منصب، پیسہ یا دولت انسانوں کو ملتا ہے تو نتیجتا دو اقسام کے احساسات پیدا ہوتے ہیں؛ بعض لوگ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ میں ہی اس کا مستحق تھا، مجھے نہیں ملتا تو کس کو ملنا تھا، میں ہی سب سے اہل اور قابل انسان ہوں۔ جبکہ دوسرے وہ لوگ جو عہدے، منصب اور دولت کو آزمائش سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے افراد اس احساس کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ ہمیں کسی کو نفع پہنچانا ہے اور زیادتی سے گریز کرنا ہے۔

وطن دوستوں کو چاہیے کہ ایسے افراد کا حوصلہ بڑھائیں، ان کو دل سے عزت دے، یہ افراد کہیں ملیں تو ان کے احترام میں کھڑے ہوں، ان کی ہمت بڑھانے کے لئے ان کو تحفے بھیجیں اور اگر ممکن ہو تو ان کے کردار کو زندہ رکھیں۔ وطن دوست مومنٹ انشااللہ و تعالیٰ ان افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ان کے نام سے لائبریریاں قائم کرے گا۔ دعا ہے اللہ ہمیں وطن دوستوں کا احترام نصیب کرے۔

تحریر؛ محمد عظیم خان کاکڑ

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Welcome! It looks like you're using an ad blocker. That's okay. Who doesn't? But without advertising-income, we can't keep making this site awesome.