بین الاقوامی

ناروے: اوسلو مذاکرات اپنے آپ میں ایک کامیابی ہیں۔ افغان وزیر خارجہ

طالبان نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں گزشتہ روز مغربی سفارت کاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان یورپ کے اپنے پہلے دورے پر ہیں۔ طالبان وفد کی قیادت عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں جبکہ میٹنگ میں امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین اور ناروے کے نمائندے موجود ہیں۔ بات چیت اتوار کے روز طالبان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ناروے کی جانب سے ہمیں یہ موقع فراہم کرنا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے، اِن ملاقاتوں سے ہمیں افغانستان کے انسانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حمایت اور ملنے کا یقین ہے۔ اس دوران نائب وزیر اطلاعات اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میٹنگ کے بعد ایک ٹویٹ کرکے بتایا کہ اجلاس کے شرکاء نے تسلیم کیا کہ افہام و تفہیم اور مشترکہ تعاون ہی افغانستان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے بہتر نتائج کے لیے تمام افغانوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button